اس بار عوام ہی سب پر بھاری ہے ! 145

اس مہنگائی میں حکومت کہاں ہے !

اس مہنگائی میں حکومت کہاں ہے !

ملک بھرمیں آغاز رمضان میں ہی لوگوں سے بنیادی ضرورت کی اشیاء چھین لی گئی ہیں، حکومت کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا، ان کو بنیادی اشیاء مناسب نرخوں پر فراہم کرنا ،چور بازاری روکنا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے، لیکن ایک مرتبہ پھر بننے والی حکومت میں سرمایہ دار ، زمینداراور مالدار طبقہ پہنچ گیا ہے،یہ عوام کے نام پر ایوان پارلیمان میں پہنچنے والے عوام کو کہاںریلیف دیں گے،

یہ نمائشی طور پر اعلانات ضرور کریں گے ،مگر اس پر عمل ہوتا کہیں دکھائی نہیں دے گا، کیو نکہ انہیں اس سے غرض ہی نہیں کہ عوام کن مشکلات سے گزررہے ہیں ، یہ عوام کے ووٹ سے آئے ہیں نہ ہی انہیں عوام کا کوئی احساس ہے ، یہ اُوپر والوں کی مہر بانی سے آئے ہیں اور اُن کے ہی ایجنڈے کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔
عوام کا حال کوئی پوچھ رہا ہے نہ ہی عوام کی کوئی پروا کررہاہے ، عوام کی آہو بکا اثر انداز ہو رہی ہے نہ ہی احتجاج کار گرثابت ہورہا ہے ، کیو نکہ سارے ہی مافیاز کے کارندے پارلیمان میں جا بیٹھے ہیں، اس ملک کے فارم سے لے کر فیکٹریاں اور بازار تک کا مکمل کنٹرول ان کے ہاتھوں میںہے، یہ جب چاہتے ہیں ، اپنی مرضی سے قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں،انہیں کوئی روکنے والا ہے نہ کوئی پو چھنے والا ہے

،وزیر اعظم میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ مہنگائی مافیا کو نہیں چھوڑیں گے ، جبکہ انہیں مہنگائی مافیا نہیں چھوڑ رہا ہے ، یہ ان کے ساتھ بیٹھا ہے اور یہ سب جا نتے بوجھتے انجان بن کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بات توہر زبان زد عام ہے کہ رمضان آتے ہی انتہائی مہنگائی آجاتی ہے اور حکومت غائب ہوجاتی ہے، بلکہ اب تو کئی برس سے مہنگائی رمضان سے پہلے ہی آجاتی ہے ،ماہ شعبان کے آخری دنوں میں جو چیز معقول نرخوں پر مل رہی ہوتی ہیں، وہ بازار سے غائب ہوجاتی ہیں یا اچانک بے انتہا مہنگی ہوجاتی ہیں،

یہ سب کچھ صرف مافیا کی ہی حدتک نہیں ہے، بلکہ اس میںحکومت اور اس کے ادارے بھی شامل ہیں، ملک میںسب کچھ اِن کی ملی بھگت سے ہی ہورہا ہے، یہ مہنگی اشیا سبزیاں پھل بیچنے والوں پر جب دکھائوئے کے چھاپے پڑتے ہیں تو پولیس اور سرکاری عملہ ساتھ ہوتا ہے، بیشتر لوگوں سے تو پہلے ہی ان افسروں کا کارندہ رقم وصول کرلیتے ہیں، اگر کوئی حیل حجت کرے تو اس کا اگلے روز چھاپے میں دماغ ٹھیک کردیا جاتا ہے ۔
یہ دکھائوئے کے چھاپے پکڑ دھکڑ ساری عام غریب کیلئے ہی رہ گئی ہے ، یہاں بڑے بڑے ساہو کاروں پر کوئی ہاتھ ڈالتا ہے نہ ہی ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو سامنے لاتا ہے، اگر کوئی ایک کسی حکومت میں پکڑا جائے تو اگلی حکومت میں باعزت بری کر دیا جاتا ہے ، کیونکہ یہاں پر ہر ایک کے مفادات دوسرے سے جڑے ہیں،حالانکہ سب ہی جانتے ہیں کہ دودھ کے نرخ کس کے کنٹرول میں ہیں

اور انڈے ،مرغی کی قیمت کون بڑھارہاہے، اس طرح آٹا، چینی ودیگر اجناس کی مارکیٹ پر کس سیاسی ٹولے کا کنٹرول ہے ، اس کے باوجود کہیں کچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ، کیو نکہ یہ سب اندر سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور مل کر عوام سے سوکھی روٹی کا نوالہ بھی چھین رہے ہیں،اس رمضان میں عوام آسانی سے روزہ رکھ سکتے ہیں نہ ہی افطار کر سکتے ہیں ،البتہ اس حکومت کو اپنی ہر سانس کے ساتھ بدعائیں ضرور دے سکتے ہیں۔دنیا بھر میں ماہ رمضان المبارک ا للہ تعالی کی طرف سے رحمت و برکات لے کر آتا ہے ،لیکن پا کستان میں ہر دور حکومت میں اسے عوام کیلئے زحمت بنادیا جاتا ہے ، اس اتحادی حکومت نے پہلے بھی عوام کو رلیف دینے کے بڑے بڑے وعدے کیے

، اس بار بھی آزمائے وعدئوں کے ساتھ آئی ہے ،لیکن اس مہنگائی میں کہیں نظر ہی نہیں آرہی ہے، یہ محض نمائشی اعلات کے علاوہ کچھ بھی نہیں کررہی ہے،لیکن یہ پی ڈی ایم ٹو بھول رہی ہے کہ اس کے سر پر گزشتہ چالیس سال کا بوجھ ہے، وہ اس پر بوجھ کو کس کے سر ڈالے گی اور کسے مود الزام ٹہرائے گی ، اس وقت تک جو بھی اقدامات و اعلانات ہورہے ہیں ،وہ سارے ہی نمائشی ہیں ،ملک بھر میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر کا نظام موجود ہے، جوکہ نہ صرف پرائس کنٹرول کرتے ہیں، بلکہ مہنگائی کا سد باب کر نے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،

اس انتظامی مشنری کو ہی متحرک کرکے اس مضنوعی گرانی کا تدارک کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس کے برعکس وزیراعظم شہباز شریف نے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے فوری طور پر ایک کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیدیا ہے، جبکہ اس سر کار پر پہلے ہی اداروںکی کمیٹیوں اور خصوصی ٹیموں کا بوجھ ہے، ایک اور آزمائی کمیٹی مزید بوجھ میں اضافہ ہی کرے گی، کوئی بہتر نتائج نہیں دیے پائے گی ِ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں