Site icon FS Media Network | Latest live Breaking News updates today in Urdu

اس رسہ کشی کا انجام !

چور دروازے سے چوریاں ہوتی رہیںگی!

اس رسہ کشی کا انجام !

پاکستانی عوام ایک عرصہ سے ہیجانی اور بے چینی کی کیفیت سے دو چار ہے اور اس سے نکل ہی نہیں پارہی ہے ، اس کیفیت سے عوام کو نکالنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے ، لیکن حکومت اپنی ذمہ داری ادا کر نے کے بجائے عوام کی آواز کو ہی دبائے جارہی ہے ، دیوار سے لگائے جارہی ہے،حالانکہ جمہوریت میں عوام کے جذبات کا خیال کیا جاتا ہے ، عوام کو اظہارے رائے اور اظہار خیال کا حق دیا جاتا ہے

، لیکن اس کے بر عکس جمہوریت میں ہی آمرانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے ، اپوزیشن کو جلسے کر نے کی اجازت دی جارہی ہے نہ ہی احتجاج کر نے دیا جارہا ہے ، اگر کوئی احتجاج کرنے آرہا ہے تو اسے بزور طاقت روکا جارہا ہے ، اسے مارا جارہا ہے ،اس پر اپوزیشن رہنما علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہمیں بزور طاقت روکے گا اور مارے گا تو وہ خود بھی مرنے کے لیے تیار رہے۔
یہ ملک میں کیسی جمہوریت ہے کہ اپوزیشن کو اظہارے رائے کا حق دیا جارہا ہے نہ ہی احتجاج کر نے دیا جارہا ہے ، ،اس کے باوجود دعویٰ کیا جارہا ہے کہ عوام کی طاقت سے جمہوریت مضبوط کررہے ہیں اور اداروں میں اصلاحات لارہے ہیں، جبکہ اس کے بر عکس اپنے مفاد میں آئینی ترامیم لائی جارہی ہیں ، صدارتی آرڈنس جاری کرائے جارہے ہیں ، اس سے جمہوریت کمزور ہورہی ہے اور ادارے ایک دوسرے کے مد مقابل آرہے ہیں

،اس ٹکرائو کے نتائج انتہائی خطر ناک ہو سکتے ہیں ، ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں ، لیکن اس سے بے خبر اتحادی حکومت اپنے اقتدار کو بچانے اور اپنے اقتدار کو ہی دوام دینے کیلئے ہر حربہ آزمائے جارہی ہے،اپنی سیاست ،اپنی ساکھ دائو پر لگائے جارہی ہے اور سمجھ رہی ہے کہ اپنے مقصد میں کا میاب ہو جائے گی اور اپنے سیاسی مخالف کو راستے سے ہٹا جائے گی ، لیکن ایساکچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دیے رہا ہے ، کیو نکہ اتحادی حکومت عوام کی حمایت سے آئی ہے نہ ہی عوام کی حمایت حاصل کر پارہی ہے ، عوام کی حمایت کے بغیر حکومت چل سکتی ہے نہ ہی زیادہ دیر رہ سکتی ہے ۔
اس بارے حکومت سب کچھ جانتی ہے ، اس کے باوجود عوام مخالف فیصلے کیے جارہے ہیں ، اس حکومت کو عوام سے زیادہ مقتدر حلقوں کی فکر کھائے جارہی ہے کہ کہیں ناراض نہ ہو جائیں ، اس لیے ان کے اشاروں پر چلا جارہا ہے اور اُ ن کے ہی ایجنڈے کو پائے تکمیل تک پہنچایا جارہا ہے ، یہ سب کچھ پہلی بار نہیں ہورہا ہے ، اس سے قبل بھی ایسا ہی کچھ ہوتا رہا ہے اور اب بھی ویسا ہی کچھ ہورہا ہے ، لیکن یہ آزمائے لوگ بھول رہے ہیں کہ جن کو راضی رکھنے کیلئے سارے جتن کیے جارہے ہیں ، انہیں بدلتے زیادہ دیر نہیں لگتی ہے

،یہ کتنی بار آئے اور اتنی ہی بار رد کیے گئے ہیں ،اس کے باوجود سبق سیکھا جارہا ہے نہ ہی اپنی روش کو بدلا جارہا ہے ،ایک بار پھر سمجھا جارہا ہے کہ لمبے ہی عر صے کیلئے لائے گئے ہیں، لیکن بلاول بھٹو زرداری کی مختلف ہوتی آراء بتارہی ہیں کہ انہیں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کی جلدی ہے ، وہ حکومت میں ہوتے ہوئے

بھی نہ ہو نے کی یقین دہانی کراتے رہتے ہیں اور بتاتے رہتے ہیں کہ حکو مت ایسا کچھ نہیں کر پارہی ہے جوکہ اسے کر نا چاہئے ، ایم کیو ایم بھی الگ ہونے کا عندیا دیتی رہتی ہے ، اتحادیوں کے اندر بھی ایک کھچڑی پک رہی ہے اور اس کھچڑی کی ہنڈیا بیچ چوراھے اچانک پھوٹ بھی سکتی ہے۔
یہ صورتحال باعثِ تشویش ہے اور اس کے نتائج جاری کشمکش میں اضافے اور اصل اہداف سے توجہ ہٹنے کا سبب ہی بنیں گے، ملک کے داخلی حالات کا تقاضا ہے کہ اس طرزِ عمل کو تبدیل کیا جائے،ملکی معیشت کا استحکام سیاسی عدم استحکام سے جان چھڑانے سے مشروط ہے، اس کیلئے ساری جاری کشمکش سے نکلنا ہو گا، ہر ایک کو ایک قدم پیچھے ہٹنا ہو گا ، حکومت کو چاہیے کہ دانشمندی سے کام لے ،اگردوسری جانب سے دھاگا کھینچا جاتا ہے تو وہی کچھ لچک دکھائے، مگروزرا کے بیانات سے تو ایسا ہی لگتا ہے

کہ جیسے حکومت سیاسی تنائومیں اپنی طرف سے کوئی کمی نہ چھوڑنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے، اس سے سیاسی افراتفری روز بروز مزید بڑھ رہی ہے اور اس کے اثرات دیگر صو بوں میں بھی دکھا ئی دینے لگے ہیں ،صوبائی وزیر اعلی ایک دوسرے کے خلاف بولنے لگے ہیں اورعوام کو علاقائی‘صوبائی‘ نسلی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کر نے لگے ہیں ،اہل سیاست کے بیانات تو کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں،

مگر عوام کے ذہنوں میں انڈیلی جانے والی نفرت نہیں بد لے گی ۔اس وقت کے بد لتے حالات داخلی انتشار سے بچنے کی تنبیہ کر ہے ہیں‘ مگر ہمارے فیصلہ ساز ان حالات کی زبان کو سمجھنے میں انتہائی غلطی کررہے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر لارہے ہیں نہ ہی معاملات سلجھا رہے ہیں ، اس سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی دوسرا ہی ایجنڈا ہے ، اس پر کا م شروع کر دیا گیا ہے ،

وفاق پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے ، صوبوں کو بھی مد مقابل لاکر کمزور کیا جارہا ہے ، جبکہ ادارے بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ، اس لڑائی جھگڑے اور سیاسی رسہ کشی میں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، فائدہ کوئی اور ہی اُٹھا جائے گا، ان کے ہاتھ کسی ایک کی چونچ اور کسی ایک کی دم ہی آئے گی۔

Exit mobile version