“تمہارا گھر تمہارے لئے پرسکون ہو” فرمان رسول اللہ ﷺ
۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707
عن عقبة بن عامر الجهني رضي الله عنه قال، قلت يا رسول الله ما النجاة؟ قال: ﷺ “أمسِكْ عليكَ لسانَكَ، وليسعْكَ بيتُك، وابكِ على خطيئتِكَ”عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:- “میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ، نجات کیا ہے”؟ آپ ﷺ نے فرمایا:- “السلام علیکم اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لئے پرسکون ہو، اور اپنے گناہ پر رو روکر(معافی تلافی) کرلو”
عقبہ بن عامر رض نے جب یہ پوچھا کہ ہم مسلمانوں کی نجات کس میں ہے تو آپ ﷺ جو جواب دیا اس میں تین نکات پر سختی سے عمل پیرائی کا حکم ہوا،پہلا اپنی زبان پر قابو پائے رہا جائے، بڑوں سے احترام سے تو چھوٹوں سے شفقت کے ساتھ ہمکلامی کی جائے،باوجود غصہ کے گالی گلوج جیسی بد کلامی سےپرہیز کیا جائے،
دوسری بات اپنے گھر ہی میں عافیت تلاش کی جائے،گھر کے باہر کسی اور کے گھر (یا ہوٹل) میں پکی پکوان کی فکریں نہ کی جائیں۔ جو کچھ اپنے گھر میں میسر ہے، اسی پر قناعت کئے، اہنے رزاق دوجہاں کا تشکر بجا لایا جائے۔ تیسری بات بشر یعنی انسان ہونے کے ناطے گناہ سرزد بھی ہوجائے تو، رو رو کر، اپنے مالک دوجہاں سے استغفار و مغفرت طلب کی جائے۔اسی میں ہم مسلمان و مومن کے لئے نجات و سکوں پنہاں ہے۔
ہمارے اسلاف سلف و صالحین کی عادت ہمیشہ یہ رہی کہ مسجد میں کسی مسافر کو پاتے تو اسے اہنے ہمراہ اپنے گھر لے آتے اور اسکی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔حضرت ابوبکر صدیق رض کے گھر،انکے ساتھ ہر کھانے پرکوئی نہ کوئی مہمان ضرور ہوتا تھا۔ خود ہمارے مرحوم آبا حضور، اسعت رزق کی وجہ، گھر میں جب جب بھی پلاؤ بریانی یا کوئی مخصوص مرغن پکوان پکتی تھیں تو محلے کے مسجد امام مولانا کو، گھر بلا، انکے ساتھ ہی کھانا کھانے کے عادی سے ہوگئے تھے۔ انگریزوں کے دور میں، تجارتی غرض سے گئے کسی وفد کی معرفت، دہلی میں ہوٹل کھولے جانے کی خبر لکھنؤ میں کسی بزرگ کے علم میں لائی گئی تو، کہنے والے کہتے تھے، وہ بزرگ زار و قطار رونے لگے،
روتے روتے کہتےجاتے تھے”اس دنیا سے مہمان نوازی اٹھ جائیگی” چار پانچ دیے قبل، ہمارے اپنے بچپن میں، اہل نائط گھرانوں میں کوئی نہ کوئی مہمان موجود رہتا تھا۔ عموماً ہر گھر کی ڈیوڑھی پر، کسی بزرگ فقیر ہی کی، مہمان کے طور خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ لیکن فی زمانہ اس تعلیم یافتہ نوجوان نسل تفکر کے اعتبار سے،کسی کا بھی اچانک بطور مہمان گھر وارد ہونا،کسی کو تکلیف دینے لائق، غیر اخلاقی عمل ہے،موجودہ جدت پسند تعلیم یافتگان تفکر، خود کے وقت مقرر کر بلائے گئے،مہمان ہی کو مہمان تصور کیاجاتا ہے
بن بلائے، آئے مہمان کو مہمان تصور ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ فی زمانہ خلیج رہگزار پیٹرو ڈالر من سلوی بہتات نے،گھر مستقل نوکرانی کے علاوہ الگ الگ کام کے بہانے،جز وقتی نوکرانیوں کے آتے جاتے پس منظر میں بھی، اور کپڑے دھونے، سالن مصالحہ پیسنے الکٹرانک مشینوں کی دستیابی باوجود، گھر کی نساء میں سست مزاجی، کسل مندی رجحان کے چلتے، اور معاشرے کے ہر گلی نکڑ پر، کھلے ہوٹلوں کی بہتات پس منظر میں، ہفتہ میں ایک دو مرتبہ کسی اچھے ہوٹل جاکر کھانے کی عادت باوجود، کسی نہ کسی بہانے ہوٹلوں میں آرڈر کر، کھانا منگوا،مزے اڑانے کا رواج ہر گھر، ہر خاندان میں عام سا ہوکر رہ گیا ہے۔
یہ جانتے بوجھتے کہ، اپنی آنکھوں سے اوجھل، ہوٹل کے ماحول میں، سالن کو لذیذ تر بنانے کے چکر میں،انسانی ہڈیوں کو کمزور کرتے کیمیکل مونوسوڈیم،اجی نہ موٹو کثیر مقدار ملائے جاتے ہیں۔ اپنے کسل مزاجی حمارپن میں، چٹخارے دار مضر صحت کھانے،نہ صرف بڑے شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ بلکہ صحت بگڑنے پر،ہزاروں روپئیے ڈاکٹروں اور شفا خانوں میں لٹائے بھی جاتے ہیں۔ شوہر وفرزند و فرزندان کی مشترکہ ہزاروں روپئیے ماہانہ کمائی، ہرماہ من سلوی اترنے کے باوجود، گھر میں برکت نہ ہونے کا رونا ہر کوئی روتا پایا جاتا ہے۔
آج جامعہ اسلامیہ بھٹکل سے منطقہ شرقیہ آئے خیرسگالی وفد کے رکن مہتمم جامعہ مولوی مقبول کوبٹے مدظلہ کے، الجبیل کوک زون ہوٹل منعقدہ اجلاس عام میں، وطن کے بگڑتے حالات بیان کرتے بتائی حدیث، “وليسعْكَ بيتُك”، “تمہارا گھر تمہارے لئے پرسکون ہو” فرمان رسول اللہ ﷺ کے عین خلاف، ہم اپنے گھروں میں عافیت تلاشنے سے ماورائیت اختیار کئے،اکثر و بیشتر ہوٹلوں کے مضر صحت کھانوں پر تکیہ کرنے لگیں
تو ہمارے گھروں سے برکت و سکوں ہم غائب ہوتا پائیں تو اس میں تعجب والی بات کہاں باقی رہتی ہے؟پہلے گھر کی نساء پرانے کئی کئی سو میٹر لمبے گھرانوں میں، کوکنگ گیس سلنڈر ماوارئیت والے دور میں، چولھے میں جلائے جانے والی لکڑیاں، ناریل کے چھلکے، گھر کے پچھواڑے سے لاتے لے جاتے چکر میں، دن میں کئی مرتبہ آتے جاتے،گھر کے مکینوں کے کپڑے خود اپنے ہاتھوں سے دھوتے، سکھاتے،
پھر انہیں تہہ کئے سلیقے سے الماریوں میں رکھتے، کھان پکوان کے لئے درکار مصالحہ جات پھتر کی سیل پر روزانہ پیستے، بیسیوں مرتبہ اٹھک بیٹھک کرتے، ورزشی وطیرہ اپنائے،اپنے تمام تر کام اپنے ہاتھوں خود کئے، خود صحت مند تندرست رہا کرتی تھیں۔لیکن فی زمانہ خلیجی کمائی پیٹرو ڈالر بہتات،ہر کام کےلئے، الکٹرونک آلات فراوانی باوجود اور جز وقتی نوکرانیوں کی موجودگی باوجود ،کسل مندی باعث،یوں ہمہ وقت ہوٹلوں سے مضر صحت کھانے منگوا کھاتے رہتے تناظر میں اور خود گھر کی نساء بغیر محنت کھائے پئیے توضیع اوقات خاطر، بیٹھے بیٹھے ٹی وی سیریل افلام بینی کرتے
،سست مزاج،کاہل اور چربی زد فربہ مائل ہوئے،کسی نہ کسی انجانے سقم کے شکار بنے، ڈاکٹروں پر پیسہ لٹاتے لٹاتے، رزق میں بے برکتی کے مارے، ہم ہوکر رہ گئے ہیں۔ ہم اس دین اسلام کے پیروکار ہیں، جس کے نبی آخرالزماں کی لاڈلی بیٹی فاطمہ زھرہ، پھتر کی چکی پر چاول و گیہوں پیس پیس،ہاتھوں پر پڑے چھالے دکھا، حرب و جنگ بعد،مال غنیمت میں آئی کسی لونڈی کی فرمائش، اپنے آبا حضور سے جب کرتی ہیں
تو، آپ ﷺ اپنی لاڈلی بیٹی فاطمہ کو لونڈی یا نوکرانی دلوانے کے بجائے، مسلسل گھر کے کام سے ہونی تھکاوٹ، جوڑ درد، دور کرنے،تین تسبیحات ہر نماز بعد پڑھنے کی نصیحت کرتے پائے جاتے ہیں۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ پاک پروردگار ہماری قومی ماں بہنوں بیٹیوں کو، اسوئے رسولﷺ پر پوری طرح عمل پیرا رہتے،اپنے ہاتھوں محنت کئے ،اپنے گھر ہی میں سکون و فرحت کے متلاشی پائی جائیں۔وما التوفیق الا باللہ