آلوداعی تقریب مشاعرہ، شاعر پاکستان المحترم سہیل ثاقب صاحب مدظلہ
نقاش نائطی
اس پرآشوب انگریزی زبان طرف دوڑتے، مسلم امہ رجحان پس منظر میں بھی، کچھ شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے اردو کے دیوانوں نے، سابقہ کئی سالوں سے، بزم یاران سخن نام سے، اردو سے نابلد کچھ عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں میں، اپنی مادری زبان “اردو” سے ہم آہنگی، محبت الفت قاِئم رکھنے کی کوشش، جو شروع کی تھیں۔اس کا پھل کل ٢٠دسمبر بروز جمعہ، شب بعدالعشاء الخبر کے اپسرا ہوٹل ھال میں سابقہ ۵٠ سالوں سے مصروف معاش مشہور پاکستانی بزرگ شاعر المحترم سہیل ثاقب صاحب کی، مملکت سے اپنے ملک پاکستان،دائمی ہجرت فیصلہ بعد، انکے اعزار میں رکھی الوداعی تقریب مشاعرہ میں،
تادم آخردلچسپ مزاحیہ انداز، اظہارتشکر تک، سامعین کا پرجوش داد دیتا انداز، اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ، ابھی نسل نو میں،اردو ادب سے رجحان ماورائی باوجود، مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بزم یاران سخن جیسے، اردو اردب اداروں کی کوششیں ہی کافی ہیں اعلی انگریزی تعلیم یافتہ نسل نو کو، اردو ادب سے جوڑے رکھنے کے لئے۔
الخبر وقوع پزیر اس محفل مشاعرہ نے، دیار ریگزار پیٹرو ڈالر، مملکت سعودی عربیہ نصف صد سال قبل، اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، فکر معاش آئے ھند و پاک ہم لوگوں میں، ان ایام یہاں مصروف معاش،اس وقت کے نامور ھند و پاک استاد شعرآء کرام، المحترم مرحوم ذکاء صدیقی صاحب علیہ الرحمہ، محترم استاد عبدالرحمن صاحب باطن علیہ الرحمہ، محترمہ مرحومہ قدسیہ لالی صاحبہ علیہ الرحمہ، المحترم یونس اعجاز صاحب شاعر پاکستان ساکن امریکہ، محترمہ ریحانہ روحی باجی صاحبہ سمیت دوسرے انیک بیسیوں ھند و پاک شعرام کرام کے ساتھ، سجتی سنورتی گھریلو مشاعرہ محفلوں نے،
شعر و شاعری سے نابلد، علمی گھرانے کے چشم و چراغ، مملکت، پیٹرو ڈالر کمانے آئے،سہیل ثاقب کو، بقول انکے مرحوم ذکاء صدیقی علیہ الرحمہ کی تلمیذی نے، آج انہیں ھند و پاک کے معتبر استاد شعراکی صف میں کھڑا ہونے کا موقع دیا ہے۔محترم مرحوم سعید منتظر صاحب علیہ الرحمہ، محترم وجاہت فاروقی صاحب علیہ الرحمہ سمیت، اردو ادب سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی شعرآء کرام و والیان اردو ادب، اپنے مالک حقیقی کی طرف پرواز کئے جاچکے ہیں اللہ پاک سے دعاہے، کہ انکی قبر کو باد نسیم جنت سے سرشار کردے اور جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان سے آگہی دین اسلام خوب تر کام لے۔
آج کی اس محفل مشاعرہ میں، تین دہے قبل والی ادبی گرمی سرگرمیوں کی یادیں جہاں خوب تر تازہ دم کی گئیں وہیں، کسی بچے ہی سے قرآن خوانی محفل شروع کرتےاسلوب سے ہٹ کر، پورے اداب و اقدار لحن داودی کے ساتھ قرآت قرآنی نیز، اپنے خوش گلو آواز سے سامعین کو جھومنے مجبور کرتے المحترم ابو شارق کی نعت گوئی کے ساتھ شروع ہوئی محفل ادب، المحترم ضیاء الرحمن صدیقی وقار کی خوبصورت نظامت اور المحترم جناب منصور شاہ قادری کے اردو ادب گوہر نایاب حروف، تزین کئے، عجلہ عروسی الوداعی تقریب مسند پر براجمان، مشہور شاعر المحترم سہیل ثاقب صاحب کی شان قصیدہ گوئی کرتے،
اسقبالیہ کلمات بعد، تین دہے قبل والے شاعر، المحترم جناب رفیق اکولوی صاحب، مشہور پاکستانی شاعر اویس ناز صاحب، سعودی عرب کے مشہور ٹٙوسٹ ماسٹر ٹرینر، المحترم جناب آصف اختر صاحب، المحترم مسعود جمال صاحب، محترمہ غزالہ کامرانی غزل صاحبہ، نئی نسل کے عصری تعلیم یافتہ المحترم جناب اقبال اسلم بدر صاحب اور سعودیوں کو انگریزی سکھانے پر معمور، پاکستانی خوش گلو غزل گو شاعرالمحترم پروفیسر آصف خان صاحب اور اپنے طنز و مزاح سے اردو شائقین منطقہ شرقیہ کو سابقہ کئی دہائیوں سے اپنے درد دکھ فراموش کئے،ہنسنے مسکرانے پر مجبور کرنے والے شاعر دکن،
المحترم سلیم حسرت صاحب پر مشتمل یہ محفل مشاعرہ، تقریب الوداعی تادیز یاد رکھی جائیگی۔ انشاءاللہ۔ اپنے وطن عزیز سے ہزاروں میل دور، ریگزار عرب میں، ہم اردو ادب متوالوں کو، ایسی ادبی محافل، اپنے درد غم بھلائے، آپنی آل اولاد کے مستقبل کو بہتر از بہتر بنانے، ہمیں صدا شادمان رکھتی ہیں۔وماالتوفیق الا باللہ