دشمن کے مقابل ہم ایک ہیں !
ملک میں ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے تو دوسری جانب دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث قیام امن دائو پر لگا ہے،جبکہ حکو مت اور اپوزیشن معاملات سلجھانے کے بجائے مزید الجھائے جارہے ہیں ،حزب اقتدار اور حزبِ اختلاف جمہوریت کی گاڑی کے دو پہیے ہیں،ان دونوں کا ہی توازن میں چلنا ریاست کے فائدے میں ہے، باہمی ٹکرائوسے کچھ حاصل نہیں ہونے والا نہیںہے ،ما سوائے پاکستان کے دشمنوں کے کہ جن کیلئے ایسا ہر موقع غنیمت ہے کہ اُن کی پیدا کردہ تخریب کاری کے سدباب کا سوچنے کے بجائے سیاسی قیادت آپس میں ہی الجھ رہی ہے ، اہل سیاست کا قومی سلامتی کے درپیش مسائل بھول کر ایک دوسرے سے حساب برابر کرنے کا رویہ کسی طور پاکستان کے ریاستی مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہے،
ہمیں دہشت گردوں کو شکست دینے سے پہلے قومی سطح پر مثالی ہم آہنگی قائم کرنا ہوگی، کیا حکومت اور حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی ہو پائے گی؟اس کے آثار کہیں دور تک دکھائی نہیں دیے رہے ہیں۔
یہ وقت دست گر یباں کا نہیں ، اتحاد و یکجہتی کا ہے ، لیکن اس کے بر عکس ہر کوئی اپنی سیاست چمکا رہا ہے اور دوسرے کو دبا رہا ہے، اس کا دشمن فائدہ اُٹھا رہا ہے، ملک دشمن کا ہدف ہی ملک کو غیر مستحکم کر نا ہے ، اس کیلئے سارے ہی حربے آزمارہا ہے ،ایسے میں قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے ،سیاسی قیادت کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر آنا ہو گا ، اس کے لئے حکو مت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے موقف کو جگہ دیناہو گی ،ایک دوسرے کی بات سننا ہو گی ، اس میںحکو مت کی زیادہ زمہ داری بنتی ہے ، کیو نکہ عوام کو تحفظ فراہم کر نا ،اس حکو مت کی ہی بنیادی ذمہ داری ہے ،اگر حکو مت وقت ہی عوام کو سیکورٹی فراہم نہ کر سکے
تو اس کے حق حکمرانی پر مر وجہ جمہوری اصولوں کے مطابق سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، جو کہ کوئی مانے نہ مانے بڑا واضح طور پر لگ رہا ہے، لیکن حکو مت اپنی کو تاہی مان رہی ہے نہ اس کا ازالہ کسی طور کررہی ہے۔
اس حکو مت کو دہشت گردی کا سد باب کیسے کر نا ہے اور قیام امن کیسے لانا ہے ، یہ کسی دوسرے نے نہیں بتانا ہے ، بلکہ اس نے خود ہی مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہے ،لیکن اس کیلئے سیاسی قیادت کو ایک ہو نا ہو گا، اس سلسلے میں بلاول بھٹو نے نیشنل ایکشن پلان ٹو بنانے کی بات کی ہے،چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے بھی کانفرنس بْلا کر مستقبل کا کوئی فریم ورک مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ہے، وزیرِاعظم نے بھی اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان کے حالات پر کْل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے،اس کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہورہا ہے، اس میںسیاسی و عسکری قیادت ایک جگہ بیٹھ رہی ہے، لیکن اس پر اپوزیشن کے تحفظات ہیں ، جو کہ دور کر نے چاہئے ، بلکہ ان کے مطالبات پر بھی غور کر نا چاہئے ، یہ وقت ایک دوسرے پر تنقید کر نے کا نہیں ہے ،بلکہ ساتھ کھڑے ہونے کا ہے اور ایک ساتھ گھڑے ہو کر ہی سارے بحرانوں کے بھنور سے نکلا جاسکتا ہے۔
اس اتحادی حکومت کو بدلتی صورت حال کی سنگینی کا احساس کر نا ہو گا ،اس وقت دہشت گردی جتنی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ،حتیٰ کہ صوبہ پنجاب میں بھی ٹار گٹ کلنگ کے واقعات ہو نے لگے ہیں ، اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ معاملات فوری طور پر سلجھایا نہ گیاتو مزید بگڑجائیں گے ،اگر بر وقت قومی یکجہتی کے اقدامات نہ کیے گئے تو اس سے دشمن ہی فائدہ اُٹھا تے رہیں گے ،ہمیں اپنی ذاتیات اورضد و انا سے باہر نکلنا ہو گا اور صرف قومی مفاد میں ہی سو چنا ہو گا اور قو می مفاد میں ہی ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ٓگے بڑھنا ہو گا، اہل سیاست اور اہل ریاست کو بلا تفریق و امتیاز اکھٹے بیٹھنا ہو گا
اور با ہمی مشاورت و اشتراک سے کوئی لائحہ عمل بنانا ہو گا ، اگر کوئی سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہا ہے یا کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہورہی ہے تو اس کو فوری طور پر روکنا ہو گا ،اس حکو مت اور اپوزیشن کو ہی نہیں ،پوری قوم کو اتحادو یکجہتی کا ثبوت دینا ہو گا اور دشمن کو بتا ہو گا کہ ہم ایک ہیں،ورنہ قو سلامتی کمیٹی کے علامیہ کے کوئی مثبت نتائج نکلیں گے نہ ہی کوئی ایکشن و ریکشن کار گر ثابت ہو گا ،بلکہ ہمارے اندر کی تقسیم سے ہمیشہ کی طرح دشمن ہی فائدہ اُٹھاتا رہے گا اور ہمیں نقصان پر نقصان ہی پہنچاتا رہے گا۔