عوام کا بھی کچھ خیال کریں !
اس ماہ رمضان میں بھی حکومت کے سارے دعوئے دھر کے دھرے رہ گئے ہیں، مہنگائی کم ہو پائی ہے نہ ہی عام آدمی کو کوئی سہولت میسر ہو پائی ہے، ماہ رمضان کے آغاز سے ہی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ رمضان کے ا ٓخری عشرے تک تھم سکا ہے نہ ہی کہیںتھم نے دیا جارہا ہے ،حکو متی وزراء اورمتعلقہ انتظامی عہدیدار کہنے کی حد تک بڑی امیدیں دلاتے رہتے ہیں
کہ ناجائز منافع خوری نہیں ہونے دیں گے، قیمتیں نہیں بڑھنے دیں گے ،مگر یہ سارے دعوے زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتے ہیں،اس پر عملی طور پر کچھ ہورہا ہے نہ ہی آئندہ ہوتا دکھائی دیتا ہے ،کیو نکہ اندر کھاتے سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور مل بانٹ کر کھائے جارہے ہیں،عوام کو بے وقوف بنائے جارہے ہیں۔
یہ کتنے تعجب کی بات ہے کہ سارے ہی ا عدادوشمار مہنگائی میں اضافہ بتارہے ہیں،لیکن حکو مت بضد ہے کہ مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، مگر اس حکو مت کی کم مہنگائی کے ثمرات عام عوام تک کہیں پہنچتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، اس بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ کم ہوتی قوتِ خرید کی وجہ سے عوام کے معاشی تفکرات کم ہونے میں نہیں آرہے ہیں، جبکہ حکو مت عام آدمی کی قوت خرید بڑھانے کے بجائے ارکان کا بینہ کی تنخواہیں بڑھائے جارہی ہے اور پلانگ کمیشن کی رپورٹ دیکھ ہی نہیں رہی ہے
کہ جس کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے منافع خوری روکنے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرکے انکی معاشی سکت بہتر بنانا بہت ضروری ہے،مگر اس راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں ابھی تک کوئی قابلِ ذکر پیش رفت دکھائی ہی نہیں دے رہی ہے۔
اس ملک میں ایک طرف توانائی کی قیمتوں سے لے کر صنعتوں کے خام مال تک ہر شعبے میں ترقی معکوس ہے تو دوسری جانب سکیورٹی کے مسائل صنعتی ترقی کی جانب اٹھتے قدموں کیلئے ایک نئی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں،
صنعتی ترقی کے حجم کا جائزہ لینے کیلئے لارج سکیل مینو فیکچرنگ کے تازہ اعدادوشمار دیکھ لینا کافی ہیں،اس کے مطابق جنوری 2025ء کے دوران بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں، جنوری 2024ء کے مقابلے میں 1.22فیصد کمی واقع ہوئی ہے تو کیسے روز گار ملے گا اور کیسے عام لوگوں کی قوت خر ید میں اضافہ ہو گا ، عام لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافے کیلئے ملک میں روزگار کے وسائل کی مضبوط بنیاد ہونی چاہیے، جو کہ مستحکم صنعتی شعبے کے بغیر ممکن نہیں ہے،
عوامی قوتِ خرید کو مستحکم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ صنعتی شعبے کی ترقی کی جانب توجہ دی جائے ،اس میں بڑے‘ درمیانے اور چھوٹے درجے کی صنعتیں شامل ہیں،
اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں گھریلو صنعتوں کا انفرادی آمدنی کے ساتھ بہت گہرا تعلق رہا ہے، مگر پچھلے کچھ عرصہ کے دوران سستی درآمدات نے ملک میں گھریلو صنعتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ،اس طرح لاکھوں مزدور بیروزگار ہو کر روزگار کی مارکیٹ میں مزید مندی کا سبب بنے ہیں،ہمارے نوجوانوں کو سٹارٹ اَپس کے ذریعے کاروبارمیں قدم رکھنے کی حوصلہ افزائی کی بھی اشد ضرورت ہے،خاص طور پر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قسمت آزمائی کا موقع ضرور ملنا چاہیے، لیکن یہ موقع دیارہا ہے
نہ ہی نئے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں ، کیو نکہ یہ کسی کی ترجیحات میں شامل ہیں نہ ہی انہیں اپنی تر جیحات میں شامل کیا جارہا ہے،اس غیر ذمہ دارنہ رویئے سے نوجوان نسل میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے ،اس مایوسی کو اُمید میں بد لنے کیلئے حکو مت کو ہی قد م بڑھانا ہو گا اور صنعتی شعبے کو وسعت دیے کر ہر ذیلی شعبے کو بڑھانا ہو گا ،س طرح کم وقت میں روزگار کے مواقع میں اضافہ یقینی بنایا جاسکتا ہے‘ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور افراد کی آمدنی میں اضافے سے انکی قوتِ خرید میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
حکو مت کب تک ڈنگ ٹپائو پروگرام کے تحت چلتی رہے گی ،اس حکومت کو کچھ سخت اور کڑوے فیصلے کرنے ہی پڑیں گے، لیکن ان فیصلوں کا سارا ہی بوجھ عام آدمی پر نہیں ڈالنا چاہئے ، عوام تو پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے مسلسل پریشانیوں کے دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں، ایسے میں ان سے مزید قربانیوں کا تقاضا کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس بار اشرافیہ سے قربانی لینے کے منصوبے پر غور کرے،
عوام پہلے ہی حکمران اتحاد کے ان فیصلوں سے سخت نالاں ہیں کہ جن کی وجہ سے مہنگائی ، بے روز گاری کا گراف مسلسل اوپر کی طرف ہی جارہا ہے، حکو مت عوام کا بھی کچھ خیال کر ے ، عوام بارے بھی سوچے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ مزید تلخ فیصلے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں اور عوام کے درمیان نہ ختم ہونے والی خلیج کا باعث بن جائیں، اگر ایساہوا تو ان کے پیج پر کبھی عوام آپائیں گے نہ ہی کبھی عوام کی حمایت حاصل کر پائیں گے۔