مذاکرات آگے بڑھانے کا عندیہ ! 38

جان لڑائیں گے، معاشی ترقی لائیں گے !

جان لڑائیں گے، معاشی ترقی لائیں گے !

حکو مت آئی ایم ایف سے ایک بار پھر قرض منظور ہو نے پر خو شیاں منارہی ہے،وزیراعظم شہباز شریف ایک بار پھر دعویٰ کرر ہے ہیں کہ اس قرض کی زند گی کو عزت و وقارکی زندگی میں بد ل کر دکھائیں گے،لیکن وہ دعوئے ہی کیا، جو کہ پورے ہو جائیں، اس حکو مت کے قائدین ہی اپنے اپوزیشن دور میں آئی ایم ایف معاہدے کو ملک کیلئے زہر قاتل قرار دیتے تھے،لیکن آج آئی ایم ایف کے قرض در قرض پر ہی خوشیاں منارہے ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف قرض پر خوش ہو نے کے بجائے ایسی پا لیسیوں پر تو جہ دینی چاہئے کہ جس سے قرض کے جال سے نجات حاصل کی جاسکے،

لیکن حکو مت کی تر جیحات میں قرض کے جال سے نکلنا نہیں ،بلکہ قرض کے جال میں پھنسے رہنا ہے ،اس لیے ہی قرض ملنے پرشرم ساری کے بجائے بھنگڑے ڈالے جارہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے توہر حکومت ہی اقتدار میں آنے سے پہلے دعوے اور وعدے تو معاشی خود انحصاری اور غیر ملکی قرضوں سے نجات کے کرتی ہے اور اقتدار میں رہتے ہوئے بھی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کی کائوشوں گنواتے نہیں تھکتی ،لیکن جب حکومت بدلتی ہے تو عوام پر انکشاف ہوتا ہے

کہ خود انحصاری کے دعویداروں نے ملک کو پہلے سے بھی کئی گنا مقروض کر دیا ہے ،اتحادی حکو مت کے قرض سے ترقی نہ کرپانے کی نوید سنانے والے وزیر اعظم کی اپنی حکومت ،ا پنی ایک سال کی قلیل مدت میں 4ارب 56کروڑ ڈالر کا قرض لے چکی ہے اور اب مزید دو پوائٹ تین ارب ڈالر قر ض کی منظوری کی خوشخبری سنا رہی ہے ،اس کے ساتھ ایک بار پھر وہی پرانا بیانیہ دہرایا جارہا ہے کہ ملک کو قر ض سے نجات دلائیں گے ، بھارت سے آگے نکل کر دکھائیں گے ،اس قر ض کی زند گی کو عزت و وقار کی زند گی میں بدل کر دکھائیں گے ،

جبکہ ایسا کچھ بھی ہو نے والا نہیں ہے۔
در اصل پاکستانی حکمران عرصہ دراز سے قرضوں کی لت کے عادی ہو چکے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ قرض دینے کے لئے تیار نہیں ہے، اگر کوئی قرض دے رہا ہے تو اپنی شرائط پر دے رہا ہے اس کی قیمت عام عوام کو پٹرول بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے ،ملک میںلوگ غریب و افلاس کے مارے خود کشیاں کر رہے ہیں اور جو زندہ بچے ہیں ،وہ جسمانی اعضا فروخت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں

،جبکہ حکومت عوام کو آج بھی سہانے خواب دکھلا رہی ہے اور وزیر اعظم بھارت کو پیچھے چھوڑنے کے دعوے کر رہے ہیں، قر ض کی زندگی کو وقار کی زندگی میں بد لنے کے ڈائیلاگ مار رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتارہے ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گا اور کون کر ے گا ، کیو نکہ اس بے اختیار حکو مت کے پلے تو کچھ بھی نہیں ہے ،یہ حکو مت ماسوائے نمائشی اعلانات و اقدامات کے کچھ بھی نہیں کر پارہی ہے۔
اس ملک میں جو بھی اقتدار میں آیا ہے ،اُس نے داخلی خودمختاری، سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے بجائے عالمی امداد پر انحصار کیا ہے، اس کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں سیاسی بے یقینی، معاشی بحران اور حکومتیں کمزور سے کمزور تر ہوتی گئی ہیں اور انہوںنے ملک کو خودانحصاری کی بجائے عالمی امداد کے سہارے کی عادت ڈال دی ہے،لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ اپنی ترجیحات میں خودانحصاری، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کو سب سے اہم بنایا جائے ،پاکستان کو عالمی امداد اور قرضوں کی بجائے اپنے وسائل سے اقتصادی خودانحصاری حاصل کرنے کی جانب لے جایا جائے،

توانائی کے شعبے میں خودکفالت، زراعت کی ترقی اور صنعتی شعبے کی مضبوطی سے ہی پاکستان اپنے معاشی بحران کو نہ صرف کم کر سکتا ہے، بلکہ معاشی استحکام کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے ، لیکن اس کیلئے ملک میں پہلے سیاسی استحکام لانا ہو گا۔
اس ملک میں سیاسی استحکام آئے گا تو ہی معاشی استحکام بھی لایا جاسکے گا،اس کیلئے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد، قانون کی بالادستی اور جمہوری نظام کی پختگی ہی اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط اور خودمختار ملک کے طور پر اُبھر سکے، اس کیلئے اتحادی حکو مت کو اپوزیشن کی جانب مفاہمت کا قدم بڑھانا ہو گا ، رانا ثنا اللہ کے مفاہمتی فارمولوں سے لے کر بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کی پیش کش تک زبانی کلامی باتیں بہت ہو چکی ہیں ، اب کوئی سنجیدہ پیش رفت بھی ہو نی چاہئے ،

ایک طرف ملک میںامن آمان خراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہے تو دوسری جانب سیاسی انتشار بھڑتا ہی جارہا ہے، ایسے میں قرض پر قرض لے کر کیسے معاشی استحکام آئے گا اور کیسے ملک چل پائے گا؟اس صورتحال کا ادراک کر تے ہوئے سارے ہی سٹیک ہو لڈر کو ایک ٹیبل پر بیٹھناہو گا اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنا کر ہی آگے بڑھناہو گا ، ورنہ جان لڑائیں گے، معاشی ترقی لائیں گے، جیسے سارے دعوئے اور نعرے ایک بار پھردھرے کے دھرے ہی رہ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں