190

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ “ناٹو” بمقابلہ “ماٹو”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری۔ “ناٹو” بمقابلہ “ماٹو”کیوں نہیں قائم کی جاتی ہے؟

نقاش نائطی
۔ +966562677707

دشمن اسلام سے یاری اور اپنوں سے غداری والا یہ ہمارا شیوہ،ہماری رضالت کا سبب بن چکا ہے۔ ہر قوم کی غیرمتوقع کامیابی و ناکامی کے پیچھے، کچھ غیرمعمولی عناصر ہوتے ہیں،جو انہیں آور اقوام سے ممتازئیت و یکتائیت یا رضالت حاصل کرواہی دیتے ہیں۔ ڈیڑھ ہزار سال قبل پورے عالم پر دو قومیں ممتاز حیثیت حکمرانی کرتی تھیں،ایک روم تو دوسرا فارس۔ خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی بعثت بعد، آپﷺ نے،مکہ سے بمجبوری مدینہ منورہ ہجرت کرگئے،اس وقت کے کمزور تر مسلمانوں کو، روم و فارس فتح ہونے، اور انکے شاہی خزانے صحن مسجد نبوی ﷺ میں ڈھیر کئے جانے کی پیشین گوئی کی تھیں

تو، کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا، کہ اس وقت کی عالمی حربی قوتیں، یوں کمزور تک دکھنے والے، مسلم مجاہدین کے سامنے، ڈھیر ہوجائیں گی۔ لیکن خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رض کے زمام حکومت میں، عالم نے دیکھا کہ مسلم مجاہدین جانبازوں کی جرآت و ہمت کے سامنے، روم و فارس کی حکومتیں بھی، مکڑی کے جالے کی طرح،بکھر کر رہ گئی تھیں۔ اہل فارس تو پورے کے پورے حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے لیکن یہود و نصاری پورے آٹھ سو سال تک اسلامی سلطنت کے سامنے سر اٹھا نہ پائے تھے۔

اور جس بات کا ڈر شروع اسلام میں اللہ کے رسولﷺ نے بتایا تھا کہ “مسلمانوں میں ابتدائی زمانے کے فقر فاقہ سے، میں پریشان نہیں ہوں لیکن زوال روم فارس مسلم مملکت،جب عالم میں پھیل جائیگی تو اس وقت مال و زر کی بہتات سے،قوم مسلم میں بگاڑ سے ڈر لگتا ہے” اور یہی ہوا، آٹھ سو سالہ اسلامی خلافت بعد، خلیفہ بغداد معتصم باللہ کے زمام حکومت میں، جب اسلامی خلافت ہلاکو خان کے سامنے ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہوگئی تو،اس وقت ہلاکو، اپنے خاندانی روایت مطابق، اپنے مفتوحہ علاقے کے بادشاہ یا خلیفہ کو، اپنے ہاتھوں سے ہلاک کرنا، اپنے لئے خوش آئند اقدام نہیں مانتے تھے۔

اسلئے معتصم باللہ کو، خود اسی کے خزانے میں قید کر رکھا گیا تھا اور کھانے میں، اسی کے جمع کردہ لعل و جوہر، سونا چاندی، پلیٹ میں سجاکر اسکے سامنے کھانے کے طور پیش کئے جاتے رہے۔ خلیفہ وقت معتصم باللہ بھوک سے نڈھال ھیرے جواہرات کے بدلے کچھ کھانے کا طلب گار پایا گیا تو،اس وقت ہلاکو خان کا وہ جملہ، جو اس نے کہا، تاریخ میں محفوظ ہے کہ “ائے معتصم جو سونا چاندی تونے جمع کیا، اگر اب نہیں کھا سکتا تو، جمع ہی کیوں کیا تھا؟اس سے تونے تیر تلوار نیزے بھالے، بنوا، اپنی فوج کو دشمن افواج سے لڑنے لائق رکھا ہوتا تو، تجھے آج یہ ذلت والا دن نہ دیکھنا پڑتا” اور یوں آٹھ سو سال قبل اللہ کے رسولﷺ کی پیشین گوئی، “قوم مسلم کی تباہی،مال و زر فراوانی کے باعث ہوگی” سچ ثابت ہوئی تھیں۔
زوال بغداد و اسپین،ایک طرف جہاں یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں کی اجتماعی قوت کے طور، برطانوی سامراج عالم پر اپنی سلطنت پھیلا رہے تھے تو، دوسری طرف استنبول ترکیہ سے عثمانی سلطنت اپنے اسلامی جہادی جذبات سے سرشار، زور پکڑ رہی تھی۔جو بعد زوال خلافت بغداد، خلافت عثمانیہ بن گئی تھی۔ جو بیسویں صدی کی ابتداء تک تقریباً،دوتہائی عالم پر حکمران رہی تھی۔خلافت راشدہ، بنو امیہ سے لیکر خلافت عثمانیہ، اسلامی جہادی جذبات سے سرشار, اپنی موت سے بے پرواہ، دین اسلام کے غلبہ کے لئے، نڈرہوکر عالم کی سرحدوں میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے تھے

تو، وہیں برٹش سامراج، اپنے مکر و فن سے، مد مقابل افواج اقوام کی کمزوریوں کو تلاش کئے، اسی اعتبار سے اپنے حربی پینترے بدلے، انہیں زیر کئے، فتح در فتح حاصل کررہے تھے۔ عرب علاقوں میں پیش رفت سے پہلے، اپنے کمانڈر و جاسوس عرب علاقوں میں بھیجے، عربوں کے اقدار و افکار کو سمجھ رہے تھے۔ زیر نذر کلپ میں، 2017 عراقی پہاڑیوں پر عرب چرواہے سے، برطانوی جنرل اسٹانلی ماودئےکی ملاقات، اور کس طرح برطانوی پاؤنڈ کے بدلے، اس عرب چرواہے سے، اسکی بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت پر معمور کتے

کو ذبح کروا،اسی کے ہاتھوں اسکی کھال اتروا، اس کتے کی بوٹیاں کروانے والا واقعہ، یہ درشانے کے لئے کافی تھا، کہ “جس قوم میں، اپنے وفادار دوستوں کے ساتھ جفا کا جذبہ باقی نہ بچا دیکھو،تو جان جاؤ، اس قوم کو، کسی بھی وقت زیر کرنا انتہائی آسان عمل ہوکر رہ جاتا ہے”۔
طلوع اسلام پر پورے ساڑھے تیرہ سو لمبے سال بعد، زوال خلافت عثمانیہ کے اسباب پر غور کریں تو، اس وقت مسلم عرب قبائل کا، اپنی آزاد عرب شہنشائیت قائم کرنے کے جنون میں، ترک سلطنت عثمانیہ کے خلاف برطانوی سامراج سے ہاتھ ملانا، اور سب سے اہم، اس وقت سلطنت عثمانیہ کی طرف سے عرب حجاز علاقے کے گورنر کے طور شریف مکہ کی حیثیت رہے،آل ہاشمی کے چشم و چراغ،

شاہ جارڈن کے دادا کا سلطنت عثمانیہ کے خلاف، برطانوی سامراج کے حق میں اٹھایا علم بغاوت، اور اس وقت سلطنت عثمانیہ کے والی خلیفہ عبدالحمید کا، حرمین شریفین علاقے میں، مسلم افواج مڈبھیر خون مسلم سے، ارض حرم سرخ کرنے سے اجتناب کا اعلی ظرف فیصلہ، زوال خلافت عثمانیہ کا اصل سبب بنا تھا
آج زوال خلافت عثمانیہ پر سو سال گزرنے کے بعد ایک نظر طائرانہ مسلم عرب حکمرانوں پر ہم ڈالتے ہیں تو، ہمیں آج سے چودہ سو سال قبل اللہ کے رسول ﷺ کا مسلم امہ میں، مال و زر کی بہتات کے چلتے، ہم سے غیرت ایمانی گویا چھیں لئے،جانے کی پیشین گوئی حرف بحرف سچ ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ آج نازی یہود و نصاری ملی بھگت یک طرفہ ہوائی بمباری میں، جہاں اب تک اس ایک سالہ حرب فلسطین اسرائیل دوران، کم و بیش ایک لاکھ معصوم عرب فلسطینی شہری زیادہ تر بچے اور نساء شہید کئے جاچکے ہیں، اور فلسطینی و لبنانی مجاہدین کی اعلی ظرفی، اتنے زیادہ شہریوں کی شہادت باوجود، اسلامی اقدار حرب و جنگ کا پاس و لحاظ رکھے، اپنے میزائل و ڈرون حملوں سے، اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کرنے سےاجتناب کی کوششیں، کہیں نہ کہیں یہود، نازی افواج کو، نڈر تر کئے، مسلم علاقوں کے معصوم شہریوں کو،اپنی ہوائی بمباری سے شہید کئے جانے سے مانع نہیں رکھ پا رہی ہیں۔

اس قدر عرب مسلم معصوم شہادتوں کے پس منظر باوجود، زوال خلافت عثمانیہ کے وقت کے غدار اول، اس وقت کے شریف مکہ کے پوتے شاہ جارڈن، خود عرب ہوتے ہوئے، اور ارض فلسطین کے داماد ہوتے ہوئے بھی، آج بھی ایک لاکھ فلسطینی عربوں کے قاتل،نازی یہود کے ساتھ، ساٹھ گانٹھ کئے، انکی معاشرتی و حربی مدد کرتے پائے جا رہے ہیں۔دیگر عرب حکمران بھی، پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ، اللہ پر توکل کامل بجائے، اپنے ملکی عوام کے معشیتی شاندار مستقبل فکر کی آڑ میں، عرب قومیت و دینی اقدار حمئیت کے لئے، یہود و نصاری باطل قوتوں کے خلاف، خود انہی یہود و نصاری والے “نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو)” طرز، “مسلم عرب ٹریٹی آرگنائزیشیں (ماٹو)” قائم کئے، کسی ایک مسلم ملک پر یہود و نصاری مملکت کا حملہ،تمام تر مسلم امہ پر حملہ تصور کرتے،مسلم امہ بمقابلہ یہود و نصاری جنگ و حرب کی دھمکی دینے کے بجائے، الٹا یہود و نصاری اسلام دشمن قوتوں کے آگے سرنگوں پائے جاتے ہیں۔
عالم کی سب سے بڑی حربی و معشیتی قوت صاحب امریکہ اور تمام تر یورپئیں، نصاری ممالک سرپرستی میں،عالم کی ساتویں بڑی حربی قوت اسرائیل کے، کھلے آسمان عالم کی سب سے بڑی جیل غزہ میں، سابقہ تیس چالیس سال سے تقریباً حصار بند رکھےگئے نہتے فلسطینیوں کی طرف سے، جانباز حماس جنگجوؤں کا جہادی جذبات سے لبریز،7 اکتوبر 2024 اسرائیل پر اسکی جارحیت کے خلاف یلغار، اور اس پر ہفتہ بھر پہلے،ایک سال پورا ہونے کے باوجود، اور اسرائیلی بمباری میں 90 فیصد غازہ تہس نہس تباہ و برباد کئےجانےکے باوجود، مجاہدین حماس کا اسرائیلی دارالخلافہ تل ابیب پر بدستور حملہ آور ہوتا تیور، کہیں نہ کہیں

،اسرائیلی جارحیت خاتمہ کے ساتھ، اپنے پورے اقدار کے ساتھ فلسطینی آزاد ریاست کا قیام ناگزیر نظر آتے پس منظر میں بھی، ان عرب مسلم ممالک کا، اب تک متحد ہوکر، فلسطین کی حمایت میں صف بستہ نہ ہونا، کہیں نہ کہیں ان عرب ریاستوں ہی کے تابناک روشن مسقبل پر سوالیہ نشان اٹھانے مجبور کررہا ہے۔ہمارے ساتھ مسلم امہ عالم کی یہی خواہش ہوگی، کہ زوال سلطنت عثمانیہ اسلامیہ پر، سو سال پورے ہوتے پس منظر میں، رزاق دوجہاں کی طرف سے عطا کردہ پیٹرو ڈالر من و سلوی سے مالامال عرب مسلم ممالک،اب تو یہود و نصاری “ناٹو” طرز مسلم عرب اتحاد “ماٹو” قائم کئے، سابقہ سو سالہ نام نہاد امریکی جمہوریت،

زیر سایہ، افغانستان، عراق، شام، لیبیاء، یمن پر، یہود ونصاری اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے، امن عامہ ہی کے نام سے، اقوام متحدہ کے ڈنڈے تلے، یلغار کئے، اس تیس سال دوران پچاس لاکھ سے زیادہ افغانی، عراقی، شامی،لیبیائی، سوریائی، یمنی ہم مسلمانوں کو شہید کئے جاتے تناظر میں،سو سال قبل، عالم یہود ونصاری سازش کے تحت، ختم کی گئی خلاف راشدہ،خلافت بنو امیہ، خلافت فاطمیہ، خلافت عثمانیہ کے تسلسل، خلافت اسلامیہ کو اس سسکتی انسانیت بقاء کے لئے دوبارہ زندہ کیا جائے،وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں