140

بشریٰ متین ایس ایل این انجینئرنگ کالج، رائچور، کرناٹک ریاست اور 16 تمغات ذہبی

بشریٰ متین ایس ایل این انجینئرنگ کالج، رائچور، کرناٹک ریاست اور 16 تمغات ذہبی

نقاش نائطی
۔ +966562677707

حجاب پہننے والی ہندوستان کی مسلمان لڑکی نے 16 گولڈ میڈل حاصل کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس سے پہلے غالبا” بھٹکل کے طالب علم باعث باسط کاڈلی نے میسور یونیورسٹی سے اپنے کیمائی مہندسی 6 طلائی تمغات حاصل کئے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ الحمد للہ آج رائچور کی بازیابی مسلم طالبہ نے 16 میڈلز حاصل کئے نہ صرف امت مسلمہ کو بالکہ باپردہ نساء طبقہ کو ھند و عالم میں افتخار بخشا ہے۔ بشری متین کو لوک سبھا اسپیکر کے ہاتھوں سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ ابن بھٹکلی

6 سال قبل شہر بھٹکل کو ایسا ہی اعزاز دلوانے والے

“باعث” صد افتخار فرزندان قوم و ملت

شہر حیدرآباد سے شائع ہونے والے۔مشہور زمانہ عالمی معیار کے اردو نیوز پورٹل ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو. الاهلال میڈیا ڈاٹ کام 5 اگست 2018 پر پوسٹ ہوا نقاش نائطی کا تہنیتی مضمون
خدا کا شکر کہ باعث کی فتح یابی پر
زمانہ فخر کرے گا اس انقلابی پر
خدا کرے یہ ترقی کا آسمان چھولے
میں خوش ہوں، باعث بهٹکل کی کامیابی پر

کرناٹک کے مشہور نعت گو شاعر عزیز بلگامی

میں ہی کیا آج پورا بهٹکل خوشی میں جھوم رہا یےفرزند قوم نائط، آل حضارم، بطل انجمن حامی المسلمین، چار بہنوں بعد بڑی ہی حسرتوں سے حمیرا و عبدباسط کے آنگن میں کھلنے والے اس پھول نے، کیمیائی مہندس کے مسند پر براجمان ہوتے ہوتے، چھ عدد طلائی تمغوں کو اپنے تاج علم و آگہی پر سجا کر، نہ صرف اپنے گلستان تولید شہر بهٹکل کو، اپنے صوبے کرناٹک بلکہ ملک و وطن کے سماں پر کہکشاں مانند روشن و منور کردیا یے.

اس کا یہ تعلیمی سفر اس لئے بھی قوم و ملت کے لئے باعث صد افتخار متصور یے کہ تکمیل سند علوم کیمیاوی کے اختتام قبل ہی ٹمل ناڈو ترچھی شہر میں منعقد پزیر. عالمی سائینسی سیمینار میں اس کا پیش کردہ مقالہ عالمی پزیرائی (ایوارڈ) پاچکا ہے.
ایک وقت تھا آج سے چار صد قبل،زوال خلافت عثمانیہ تک، علوم طب و کیمیا کہ جغرافیہ و ریاضیات یاکہ علوم مخلوقات بحر و جبل و جنگل و بیابان و أرض و سماوات کہ ماہ وانجم کہ اصوات و انوار کی پیمائش کا علم، یہ تمام علوم ،علم قرآنی کی ہدایات کی روشنی میں مسلم ماہر العلوم کے قدموں سرنگوں رہا کرتی تھیں.اور زمام حکومت عالم ،

ان علوم کو تسخیر کرنے والوں کی اسیر رہا کرتی تهیں. شاید اسی لئے یہود و نصاری نےمسمانوں کو، جہاں علوم دینیہ اور علوم عصر حاضر کی دو مخالف شاہراوؤں پر ڈال کر، ہزار سال عالم پر حکمرانی کرنے والوں کو اپنی اسیری میں صدا محبوس رکھنے کا انتظام کرلیا وہیں پر مسلمانوں کے، خوبصورت جزدانوں میں لپیٹ، بڑے ہی احترام سے مسلمانی دسترس سے اوپر محفوظ مقام پر رکھے،قرآن مجید پر خود (یہود و نصاری) عربی زبان پر دسترس حاصل کر، اور تدبر کر، ارض و سماوات کہ ماہ وانجم پر تحقیق کرتے ہوئے،عالم و مخلوقات عالم پر اپنے زمام حکومت کو حیات دوام بخشتےریے

مسلمان عالم کو اپنے اس سنہرے دور ملکی کو اپنے میں واپس لانے کے لئے، اسیران حرب بدر کے سلسلے میں،اسیری سے نجات کے لئے، اپنے پاس موجود علوم حرب کو مسلمانوں میں منتقل کرنے والےآپ ﷺ کے، معرکتہ الاراء فیصلے کی روشنی میں،فی زمانہ حرب عالم میں مستعمل ، میزائل سازی کہ ڈرون سازی یاکہ ذرات پر تدبر و تحقیق کر، ادنی ذرات کو مقوی تر کرتی بم سازی کے علوم میں ماہر و یکتا ہونا پڑیگا.فلفور ہم مسلمین میں موجود شکم سیری و خواب خرگوش خوری یا اونچی و پرتعیش سکنی عمارت سازی یاکہ ایک دوسرے کی عیب گوئی و فتاوی تکفیری کے ان عیوب سے ماورائیت اختیار کر،علوم قرآن و حدیث کی روشنی میں علوم عصر حاضر، علوم کیمیا کہ ریاضی میں یکتا بننا پڑیگا.

یقینا فی زمانہ مسلمانوں میں طلب علم عصر کی چاہ بڑھی یے. لیکن طلب علم کے تناسب کو اور بڑھانا ہوگا. قوم نائط کے دو اور فرزندان، اولا سفیان ابن مولوی عبدالحمید سلطان اکرمی عالمیئت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آئی اےایس کی سند حاصل کرنے جامعہ ملیہ دہلی جہاں پہنچ چکے ہیں.وہیں پر محمد محمدصدیق ابن معین الدین سعدا انجمن حامی المسلمین بهٹکل سے امتیازی نمبرات سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، آئی اے آئس کی سند حاصل کرنے دہلی جامعہ ملیہ میں داخلہ لے چکے ہیں
باعث باسط کاڑلی پر ہماری نظریں اس لئے بھی مرکوز ہیں کہ اس نے علوم کیمیا پر چھ تمغوں سے مزین انجنیر کی سند کے ساتھ علوم کیمیا کو مسخر کرنے کی سعی کی ہے اور یقینا یہ راہ پرپیچ و وقت طلب یے لیکن قوم و وطن کے ساتھ خود اس کے شاندار مستقبل کی بهی ضامن یے.اس موقع پر ہمارے سابق صدر ہند اے پی جے عبدالکلام مرحوم، پدر میزائل صنعت ساز بالهند کی یاد دلا گیا جن کے تدبر وتحقيق مزائل سازی نے عرصہ قلیل قبل کے ترقی پزیر صنعت ہند کو ترقی یافتہ ہند میں تبدیل کرتے ہوئے،ہند کو امامت عالم کی دوڑ آگے گامزن کیا ہے

یہ تینوں طالب یا اس قبیل کی اعلی تعلیم حاصل کرنے والے دیگر فرزندان قوم، قوم و ملت کا سرمایہ ہیں قوم و ملت کی امانت ہیں اور قوم و ملت کو ان سے بہت توقعات وابستہ ہیں.اللہ کرے یہ فرزندان قوم اپنے اپنے منتخب لائن کے علوم میں، اعلی سے اعلی علم وعرفان حاصل کر، قوم و ملت کو عالم کی اور اقوام کے سامنے سرخ رو ہونے کا باعث بنیں .وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں